بنگلورو:26؍مارچ (ایس اؤ نیوز)دولاکھ روپیوں کی سپاری دےکر خود اپنے شوہر کو موت کے گھاٹ اتارنے والی بیوی سمیت 10 ملزموں کو بنگلورو ،سُدَّ گونٹے پالیا کی پولس نے گرفتارکرلیا ہے۔ ملزموں کی شناخت مقتول کی بیوی تسلیم بانو، اس کا دوست افسر خان، تبریز پاشا، وسیم کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ملزموں میں ایک لڑکا بھی ہے۔ سپاری کی رقم اور ہتھیار کو پولس نے ضبط کرلیا ہے۔ مقتول کی شناخت تسلیم بانو کے شوہر غوثیہ نگر کے مکین محمد شفیع کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ محمد شفیع کو 19مارچ کو ہتھیاروں سے حملہ کرتےہوئے قتل کیاگیا تھا۔
پولس ذرائع نے بتایا کہ محمد شفیع اور تسلیم بانوکی کئی برس پہلے شادی ہوئی تھی اور شادی کے بعد دونوں غوثیہ نگر میں مقیم تھے۔ ایک شناسا کی شادی میں شرکت کےلئے جب دونوں میاں بیوی شریک ہوئے تو وہاں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنےو الے افسرخان سے تسلیم بانو کی ملاقات ہوئی۔ پھر اس کے بعد دونوں میں دوستی ہوئی اور معاملہ بہت آگے تک بڑھ گیا۔
پولس کاکہنا ہے کہ ملزم افسرخان ، رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں شراکت داری کی بات کرتے ہوئے محمد شفیع کے قریب ہوا۔ اس کے بعد تسلیم بانوسے دوستی مضبوط ہوئی ۔ افسرخان کبھی کبھار تسلیم بانوکے گھر آجایا کرتاتھا۔ تسلیم بانونے افسرخان سے کہاکہ ہماری دوستی میں میرا شوہر رکاوٹ بن رہاہے۔ اس کے بعددونوں نے پلان کرکے جادوٹونے کے ذریعے محمد شفیع کو ختم کرنےکی ناکام کوشش بھی کی۔ کوشش ناکام ہونے کے بعد بھی اپنی پلاننگ جاری رکھتے ہوئے دونوں سپاری کلرس کے لئےآگے بڑھے۔
پولس ذرائع کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ سے وابستہ تبریز پاشا اور وسیم سے رابطہ کرتےہوئے انہیں 2لاکھ روپئے اور معاملے کا خرچ دئیےجانے کی بات کہی۔ سازش کے تحت افسرخان نے 19مارچ کو محمد شفیع کو فون کرتےہوئے کہاکہ رئیل اسٹیٹ معاملے میں بات کرنی ہے ۔ تو نیو گرپن پالیا کے ٹمبر گلی میں آجاؤ۔ جب محمد شفیع جائے وقوع پر پہنچا تو اسی دوران ملزموں نے محمد شفیع پر ہتھیاروں سے حملہ کرتےہوئے اسے قتل کر دیا اور پھر موقع پر سے فرار ہوگئے۔
جب پولس نے قتل کے معاملے کی جانچ شروع کی تو پتہ چلا کہ یہ قتل کسی جان پہچان والوں نے ہی کی ہے۔ اسی دوران یہ بھی پتہ چلا کہ افسرخان نے تسلیم بانوں کو کئی ایک تحفے تحائف بھی دیئے ہیں۔ پولس کے شک کی سوئی جب افسرخان کی طرف گئی تو پولس نے افسرخان کو تحویل میں لے کر سختی کے ساتھ پوچھ تاچھ کی جس کے بعد افسرخان نے اپنا جرم قبول کیا اور بقیہ ملزم جال میں پھنس گئے۔